ایل سلواڈور کمیونٹی کے دو لاکھ تارکین وطن کی ڈیپورٹیشن ؟

ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں رہنے اور کام کرنے والے دو لاکھ ایل سلواڈور کے شہریوں کے پرمٹ منسوخ کر دے گا


2001 میں وسطی امریکہ کے اس ملک میں زلزلے آنے کے بعد امریکہ نے انسانی بنیادوں پر بنائے گئے پروگرام ’ٹیمپورری پوٹیکٹڈ سٹیٹس‘ (ٹی پی ایس) کے تحت لوگوں کو یہ پرمٹ دیے تھے


ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی ہیٹی اور نکاراگوا کے دسیوں ہزار شہریوں پر سے ٹی پی ایس کا تحفظ اٹھا لیا تھا، ایل سلواڈور کے متاثرہ شہریوں کو 9 ستمبر 2019 تک کی اجازت


واشنگٹن ڈی سی (اردو نیوز ) ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں رہنے اور کام کرنے والے دو لاکھ ایل سلواڈور کے شہریوں کے پرمٹ منسوخ کر دے گا۔بی بی سی اردو کی نیوز رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ2001 میں وسطی امریکہ کے اس ملک میں زلزلے آنے کے بعد امریکہ نے انسانی بنیادوں پر بنائے گئے پروگرام ’ٹیمپورری پوٹیکٹڈ سٹیٹس‘ (ٹی پی ایس) کے تحت لوگوں کو یہ پرمٹ دیے تھے۔ٹی پی ایس کے بغیر ایل سلواڈور کے شہریوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہو گا اور انھیں گرفتار اور ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی ہیٹی اور نکاراگوا کے دسیوں ہزار شہریوں پر سے ٹی پی ایس کا تحفظ اٹھا لیا تھا۔
ایل سلواڈور کے شہریوں کو دیے ہوئے ٹی پی ایس کی معیاد پیر کو ختم ہونی تھی۔ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کا منصوبہ ہے کہ وہ ایل سلواڈور کے متاثرہ شہریوں کو 9 ستمبر 2019 تک کی اجازت دے تا کہ وہ امریکہ سے نکلنے یا یہاں رہنے کے لیے کوئی قانونی راستہ تلاش کر سکیں۔
’ٹیمپورری پوٹیکٹڈ سٹیٹس‘ (ٹی پی ایس) کیا ہے؟

یہ پروگرام 1990 میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے تحت متعدد ممالک سے آئے ہوئے پناہ گزین ملک میں قانونی طور پر رہ اور کام کر سکتے تھے۔ اس کا تعلق اس چیز سے بالکل نہیں تھا کہ وہ ملک میں قانونی طریقے سے داخل ہوئے یا غیر قانونی طریقے سے۔یہ صرف ان ممالک کو دیا گیا تھا جو مسلح شورشوں، ماحولیاتی تباہی یا وبائی بیماریوں سے متاثر ہوئے تھے۔ایل سلواڈور کے شہری اس پروگرام کے سب سے بڑے وصول کنندگان ہیں۔

تاریخ اشاعت : 2018-01-10 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock