اوورسیز پاکستانیز

نیویارک میں ’PASWO‘کا اشیائے خوردو نوش کی تقسیم کا سلسلہ جاری

“(PASWO) کے زیر اہتمام گذشتہ ہفتے امیگریشن ، انٹر نیٹ سمیت دیگر پلیٹ فارم پر جعل ساز افراد کی جانب سے کی جانیوالی جعل سازی اور اہم قانونی امور پر خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا

الحمد للہ خدمات خلق کے اس سلسلے کو چار ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے ۔تنظیم کے زیر اہتمام حسب معمول 22جولائی کو بھی فوڈ پینٹری کا اہتمام کیا گیا جس میں مستحق افراد میں اشیائے خوردو نوش تقسیم کی گئیں
تقریب میں پاکستانی و جیوئش کمیونٹی کی مقامی اہم شخصیات شازیہ وٹو ، مارک مائیر ایپل اور نیویارک سٹی کونسل کے امیدوار بورس نوبل نے خصوصی شرکت کی ، PASWOکی خدمت کو خراج تحسین
PASWOکی پریذیڈنٹ عطیہ شہناز ، وائس پریذیڈنٹ راحیلہ اسلم ، ڈائریکٹر کمیونٹی افئیرز سمیرا نور، مسرت صدیقی ، شاہین کھوکھر، صفیہ علی سمیت دیگر کے ساتھ ملکر مستحق افراد میںاشیائے خوردو نوش تقسیم کیں
گذشتہ چار ماہ سے مسلسل ہف ہفتے جیسے ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “ کی جانب سے اشیائے خوردو نوش فراہم کی جاتی ہیں ، یہ ایک بڑی مدد ہے، مدد حاصل کرنیوالا کا اظہارتشکر

نیویارک (اردونیوز ) پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ہنر مند خواتین کی ایک اہم ، نمائندہ و منفرد تنظیم ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “(PASWO) کے زیر اہتمام مستحق نیویارکرز کےلئے خدمات کا سلسلسہ جاری ہے جس کے تحت بروکلین (نیویارک) میں ہر بدھ کو مستحق افراد میں اشیاءخوردو نوش تقسیم کی جاتی ہیں جبکہ ہفتے میں پانچ دن باقاعدگی سے بے گھر افراد ( ہوم لیس ) میں تازہ و گرم کھانے تقسیم کئے جاتے ہیں اور امیگریشن ، ڈومیسٹک وائلنس، پولیس کمیونٹی تعلقات ، ٹیکس سمیت دیگر موضوعات پر نہایت ہی معلوماتی اور مفید سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں ۔
”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “(PASWO) کی پریذیڈنٹ و ایگزیکٹو ڈائریکٹر عطیہ شہناز کے مطابق الحمد للہ خدمات خلق کے اس سلسلے کو چار ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے ۔تنظیم کے زیر اہتمام حسب معمول 22جولائی کو بھی کونی آئی لینڈ ایونیو بروکلین پر فوڈ پینٹری کا اہتمام کیا گیا جس میں مستحق افراد میں اشیائے خوردو نوش تقسیم کی گئیں ۔ اس ہفتے تقریب میں پاکستانی و جیوئش کمیونٹی کی مقامی اہم شخصیات شازیہ وٹو ، مارک مائیر ایپل اور نیویارک سٹی کونسل کے امیدوار بورس نوبل نے خصوصی شرکت کی ۔ انہوں نے ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “(PASWO) کے عہدیداران اور ارکان عطیہ شہناز ، وائس پریذیڈنٹ راحیلہ اسلم ، ڈائریکٹر کمیونٹی افئیرز سمیرا نور، مسرت صدیقی ، شاہین کھوکھر، صفیہ علی سمیت دیگر کے ساتھ ملکر مستحق افراد میںاشیائے خوردو نوش تقسیم کیں ۔
اشیائے خوردو نوش حاصل کرنے والے نیویارکرز نے کہا کہ گذشتہ چار ماہ سے مسلسل ہف ہفتے (بدھ کے روز ) جیسے ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “ کی جانب سے اشیائے خوردو نوش فراہم کی جاتی ہیں ، یہ ایک بڑی مدد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل حالات میں خدمت خلق کرنے والی تنظیموں کے لئے وہ دعا گو ہیں ۔
شازیہ وٹو ، مارک مائیر ایپل اور بورس نوبل کی جانب سے بھی ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ اس مشکل وقت میں سب کو مل کرکام کرنا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے ۔
عطیہ شہناز نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کی گورنمنٹ فنڈنگ کے بغیر خدمات خلق کے اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں کمیونٹی کی رہنما ئی اور تعاون کی ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔
عطیہ شہناز نے مزید کہا کہ ہمارے خدمات خلق کے اب تک ایک سو پروگرام ہو گئے ہیں ۔ اشیائے خوردو نوش کی تقسیم کے 16پروگرام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ PASWOکے زیر اہتمام ہم انگلش لرنگ، کمپیوٹر، کاسمو ٹالوجی ،ہینڈی کرافٹ ، سلائی کے تربیتی پروگراموں کے علاوہ امیگریشن اور ٹیکس فائلنگ جیسے اہم پروگرام بھی منعقد کرتے رہے ہیں جو کہ حالات بہتر ہونے پر اب دوبارہ شروع کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔

Gloria Rios is addressing a legal seminar organized by PASWO
Gloria Rios is addressing a legal seminar organized by PASWO

دریں اثناء ”پاکستانی امریکن سکلڈ ویمن آرگنائزیشن “(PASWO) کے زیر اہتمام گذشتہ ہفتے امیگریشن ، انٹر نیٹ سمیت دیگر پلیٹ فارم پر جعل ساز افراد کی جانب سے کی جانیوالی جعل سازی اور اہم قانونی امور پر ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا ۔ سیمینار میں اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بروکلین گلوریا رائیوس نے خصوصی شرکت کی ۔ وہ بروکلین ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں امیگرنٹ افئیرز کی یونٹ انچارج بھی ہیں ۔
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بروکلین گلوریا رائیوس نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس قطع نظر امیگریشن سٹیٹس کے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نیویارک میں جعل سازوں کی جانب سے بھولے بھالے امیگرنٹس کو بیوقوف بنا کر نقسان پہنچانے کے مختلف حربوں اور واقعات کے بارے میں بھی بتایا ۔
گلوریا رائیوس نے کہا کہ بعض اوقات امیگرنٹ کمیونٹی ارکان کے پاس لیگلسٹیٹس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لوگ ان کو اصل اجر ت ادا نہیں کرتے بلکہ کم اجرت ادا کرتے ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ ڈی اے آفس ایسے واقعات کا نوٹس لے کر ایکشن لیتا ہے ۔
گلوریا رائیوس نے کہا کہ امیگرنٹ کمیونٹی ارکان اس امر کا خیال رکھیں کہ امیگریشن کیس سمیت کسی بھی قسم کے پیپر ورک کے لئے مستند اور سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی خدمات حاصل کریں ۔ جیسے امیگریشن امور سے متعلق اٹارنی کی خدمات حاصل کریں ، پیپر ورک کرتے وقت کوئی بھی غلط بیانی نہ کریں ۔اگر جھوٹ ثابت ہو جائے تو آپ ذمہ دار ثابت ہوں گے۔ بعد میں اگر پتہ چلے کہ پیپر ورک میں کوئی غلط بیانی کی گئی تو مشکل ہو جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ کسی کے پاس سٹیٹس نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے گھر پر کام کاج کے لئے ملاز م رکھتے ہیں اور انہیں بھی نیویارک سٹیٹ کی معتین کردہ اجرت ادا نہیں کرتے اور استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایک قابل تعزیز اقدام ہے ۔انہوں نے کہا کہ کبھی بھی خالی کاغذ پر دستخط نہ کریں۔ اگر کوئی شخص کسی شخص آپ کے کسی کیس کی فیس کی ادائیگی صرف کیش یا زلے وغیرہ کے ذریعے کرنے پر اصرار کریں تو فوراً محتاط ہو جائیں ۔ چیک سے ادائیگی کریںکیونکہ اس صورت میں آپ کے پاس دوسری پارٹی کے بنک کی تفصیل بھی آجاتی ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بروکلین گلوریا رائیوس نے کہا کہ بروکلین ڈے اے آفس کے نمبروں پر رابطہ کرکے اہم امور کے بارے میں معلومات اور رہنما ئی حاصل کی جا سکتی ہے ، اسی طرح دوسری تنظیمیں بھی ہیں کہ جو امیگرنٹس کو بلا معاوضہ خدمات فراہم کرتی ہیں ۔
یو ویزہ کے بارے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بروکلین گلوریا رائیوس نے کہا کہ کوئی بھی مرد یا خاتون جو کہ کسی بڑے یا چھوٹے جرم کے متاثرین ہوں ، وہ یو ویزہ کیٹیگری میں لیگل سٹیٹس حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ڈی اے آفس سے کیس کے بارے میں اہم تصدیق حاصل کی جاتی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ویزہ سیکس ٹریفکنگ کیس میں اپلائی کیا جاتا ہے ۔
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی بروکلین نے کہا کہ ڈے اے آفس ”پاسوو “ کی طرح کمیونٹی تنظیموں کی مدد سے کمیونٹی میں اہم امور کے بارے میں شعور اور رہنمائی فراہم کرنے کے لئے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرتا ہے۔
نیویارک سٹی کونسل کے امیدوار بورس نوبل نے اپنے اوپر ہونے والے ایک نا معلوم شخص کے حملے کے واقعہ کاذ کر کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک نفرت انگیز جرم ہے ۔ لیکن میرا جرم کو رپورٹ کرنے اور جرم کی نوعیت کو متعین کروانے کے سلسلے میں جو تجربہ رہا ، وہ بالکل مختلف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز واقعات کا ادراک فوری طور پر ہونا چاہئیے ۔
آخر میں عطیہ شہناز نے سب کا شکرئیہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاسوو سے متعلق معلومات کےلئے ان کی ویب سائٹ وزٹ کریں یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فالو کریں ۔
www.paswo.org

Related Articles

Back to top button